ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی ریاستی حکومت کو گرانے کی حماقت نہ کرے: ویرپا موئیلی

بی جے پی ریاستی حکومت کو گرانے کی حماقت نہ کرے: ویرپا موئیلی

Sat, 15 Sep 2018 12:02:20    S.O. News Service

بنگلورو،15؍ستمبر(ایس او نیوز) سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس رہنما ڈاکٹر ویرپا موئیلی نے ریاست کی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو گرانے بی جے پی کی کوششوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاہے کہ درپردہ طریقے سے حکومت گراکر اقتدار حاصل کرنے میں اگر بی جے پی کامیاب بھی ہوگئی تو وہ حکومت عوام کی امنگوں کے مطابق کام نہیں کرسکے گی۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2008 میں بھی یڈیورپا نے آپریشن کمل کے ذریعے اقتدار حاصل کیا ، لیکن ساڑھے تین سال وزیراعلیٰ کی حیثیت سے وہ کبھی سکون سے حکومت نہیں کر پائے۔اقتدار کی ہوس میں اب یڈیورپا اپنی وہی پرانی عادت کو دہرانا چاہتے ہیں جس کے لئے وہ بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر موئیلی نے کہاکہ کانگریس کی بنیادیں ملک میں پیوست ہیں ۔ 137 سالہ تاریخ کی حامل کانگریس کو توڑنے میں جب انگریز حکومت ناکام ہوگئی تو بی جے پی کیا چیز ہے۔انہوں نے کہاکہ صدر کانگریس راہل گاندھی نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ مخلوط حکومت پانچ سال کسی پریشانی کے بغیر کام کرے گی، اس وعدے کو نبھانا ہر کانگریسی کی ذمہ داری ہے، یکا دکا لیڈر مل کر اس حکومت کو کمزور نہیں کرپائیں گے۔

ڈاکٹر موئیلی نے کہاکہ آنے والے دنوں میں بی جے پی مرکز یا ریاست میں اقتدار پر نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ اس بات پر تعجب نہیں کرناچاہئے کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اگر کانگریس اور جے ڈی ایس نے مل کر مقابلہ کیا تو کرناٹک میں بی جے پی کے اراکین لوک سبھا کی تعداد گھٹ کر چار یا پانچ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے مرحلے میں جبکہ ریاست کے بعض علاقے سیلاب کی بدترین صورتحال سے بدحال ہیں اور بیشتر اضلاع خشک سالی کی وجہ سے خسارہ جھیل رہے ہیں، مرکزی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ریاست کی بھرپور مدد کرے ، ایسا کرنے کی بجائے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرکے ریاستی وزراء اور کانگریس قائدین کو ہراساں کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم مودی کا آمرانہ رویہ ملک کو تباہ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ساڑھے چار سال کے دوران ملک کے عوام نے اتنے برے دن دیکھے ہیں کہ معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی ، رافیل ، اور پیٹرول کی قیمتیں میں اضافے سب سے بڑے گھپلے بن کر سامنے آرہے ہیں۔ عوام میں خوف وہراسانی کا ماحول پیدا ہوچکا ہے۔ ماب لنچک عام ہوچکی ہے۔ ملک کے اہم ترین عہدے پر فائز وزیر خزانہ ایک مجرم کو ملک سے فرار ہونے کا راستہ فراہم کرتے ہیں تو اس سے بدتر حالت اور کیا ہوسکتی ہے۔


Share: